غلطی کا اعتراف

 
غلطی کا اعتراف,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی 
 
 
 
اہل فارس کا کہنا ہے کہ ”جو مٹھی بھر مٹی جنگ تمام ہونے کے بعد یاد آئے، اسے اپنے سر پر ڈال لینا چاہئے“۔ ہر وقت کیلئے ایک کام اور ہر کام کیلئے وقت ہوا کرتا ہے۔ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنا کار دانشمندی نہیں۔ ہاں، غلطی کے اعتراف کے بعد اپنا چلن تبدیل اور اصلاح احوال کو عزم کرلینے والے بہرطور کسی نہ کسی حد تک زیاں کا ازالہ ضرور کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ پرانی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ نئی اور پہلے سے کہیں زیادہ بھیانک غلطیوں کی خاردار فصل بوتے چلے جائیں تو اسے لاحاصلی کا اندھا، گونگا اور بہرہ سفر ہی کہا جاسکتا ہے جو منزل مراد پانے کے بجائے نامرادی کے گھنے جنگلوں میں گم ہوجاتا ہے۔
فرمایا عزت مآب وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہ ”ہم نے میثاق جمہوریت پر عمل نہ کرکے بڑی غلطی کی ہے“۔ ارشاد ہوا عالی مرتبت وزیر اطلاعات جناب قمر الزماں کائرہ کی طرف سے کہ ”احتساب محض سیاستدانوں ہی کا نہیں، جرنیلوں اور ججوں کا بھی ہونا چاہئے“ اور انکشاف کیا خطہ پوٹھوہار سے اٹھنے والے پہلے وزیر قانون و انصاف، ڈاکٹر بابر اعوان نے کہ ”2010“ میں پرویز مشرف کا ٹرائل ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ان تینوں درخشاں ستاروں اور زعمائے ملت سے پوچھا جاسکتا ہے کہ میثاق جمہوریت پر عمل نہ کرنے، ججوں اور جرنیلوں کو احتساب سے ماوریٰ رکھنے اور پرویز مشرف کا ٹرائل نہ کرنے کیلئے سو سو دلیلیں تراشنے کی ذمہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے؟ اور دوسرا سوال یہ کہ جب کچھ حقائق آپ پر آشکارا ہوہی گئے ہیں تو کیا آپ اپنے دستور العمل اور طرز حکمرانی میں کوئی مثبت اور توانا تبدیلی لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
ایک دوسرے کے لہو کی پیاسی اور کئی برس تک باہم پنجہ آزمائی کرنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے جب مستقبل کیلئے ایک مشترکہ منشور اور حکمت عملی کی ضرورت کا احساس کیا تو تاریخ کے کئی ناروا باب ان کے پیش نظر تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کا جدہ کے سرور پیلس جاکر ملک بدر نواز شریف اور شہباز شریف سے ملنا کوئی معمولی پیشرفت نہ تھی۔ اسی ملاقات میں میثاق جمہوریت کے تصور پر بات ہوئی اور دونوں جماعتوں کے تین تین رہنماؤں پر مشتمل ایک ٹیم نے کام کا آغاز کردیا۔ دو برس کی ریاضت کے بعد 15مئی 2006ء کو لندن میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے ”چارٹر آف ڈیمو کریسی“ نامی معاہدے پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کو قرارداد مقاصد کے بعد دوسری اہم اور معتبر دستاویز قرار دیا گیا۔ لندن آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی تمام قابل ذکر جماعتوں نے اس کی توثیق کی۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتہائی منشور میں میثاق پر مکمل عملدرآمد کا عہد کیا۔ پیپلز پارٹی نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی زیر نگرانی تیار کئے گئے انتخابی منشور میں میثاق جمہوریت کے پورے مسودے کو شامل کرلیا۔ یوں دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے وعدے کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں۔ عوام نے دونوں جماعتوں کو 342 کے ایوان میں دو سو بیس کے لگ بھگ سیٹیں دیکر اپنا واضح فیصلہ صادر کردیا۔ نئی پارلیمنٹ کا سفر مفاہمت اور خیرسگالی کی فضا میں شروع ہوا۔ یہاں تک کہ پورے ایوان نے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کو اتفاق رائے کے ساتھ قائد ایوان چن لیا۔ یہ اس امر کا اشارہ تھا کہ اگر حکمران جماعت، خلوص دل اور نیک نیتی کے ساتھ آمریت کے آثار مٹا کر جمہوری عمل کو تقویت دینا چاہتی ہے تو اسے مشرف کے سابقہ ساتھیوں سمیت تمام جماعتوں کی تائید و حمایت حاصل ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے کرنے کا واحد کام یہ تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو مرکزی اتحادی کے طور پر مخلوط حکومت کا حصہ بنائے رکھے اور میثاق جمہوریت کو باہمی تعاون کی اساس کے طور پر اپنی فہرست ترجیحات میں سب سے اوپر رکھے۔
سفر کا آغاز اچھا ہوا۔ 9مارچ 2008ء کو بھوربن میں دونوں جماعتوں کے درمیان کولیشن قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ ہوا۔ مسلم لیگ (ن) نے صرف دو شرائط رکھیں۔ ایک معزول ججوں کی بحالی اور دوسری میثاق جمہوریت پر عملدرآمد۔ ان میں سے دوسری پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ تھی اور پہلی کے بارے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی یہ پکار ابھی تک فضاؤں میں گونج رہی تھی کہ ”میرا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہے۔ ہم اس کے گھر پاکستان کا پرچم لہرائیں گے“۔ پاکستان بھر کے عوام نے اسے مکروہ آمریت کے بعد تابناک جمہوری سفر کا آغاز قرار دیتے ہوئے خوش آمدید کہا، میڈیا نے اسے صبح نو کی نوید قرار دیا۔ مبصرین نے اسے قومی رہنماؤں کی سیاسی بلوغت سے تعبیر کیا اور دنیا نے جانا کہ آمریت کی پے درپے ضربیں کھانے کے بعد بالآخر پاکستانی سیاستدانوں نے باوقار سیاست کا ہنر سیکھ لیا ہے۔
بعد میں کیا ہوا؟ بقول فیض…
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
ملتان کے سید زادے کو کیا اس شہر آشوب کا علم نہیں؟ مرنجان مرنج قمر الزماں کائرہ کیا نہیں جانتے؟ طوطی ہزار بیاں ڈاکٹر بابر اعوان کیا واقعی بے خبر ہیں؟ ججوں کی بحالی کے معاملے کو کس نے تماشا بنایا؟ وہ کون تھے جنہوں نے آصف زرداری کو باور کرایا کہ افتخار چوہدری اب قصہ پارینہ ہوچکا ہے، وکلاء کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور نواز شریف کے لانگ مارچ کو ان کی نااہلی اور گورنر راج کی ضرب کاری سے ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔ مالی مرتبت سید زادے کے خیال میں میثاق جمہوریت کو عملی جامہ نہ پہنانا غلطی تھی لیکن اس سے کہیں زیادہ بھیانک اور بنیادی غلطی یہ تھی کو چند منچلوں کی باتوں میں آکر آصف زرداری نے ججوں کی بحالی کے وعدے سے مکر جانے اور عبدالحمید ڈوگر کی مسیحائی کو اپنی حکمرانی کا سائبان بنانے کی ٹھان لی۔ بعد میں جو کچھ ہوا وہ اسی سفاک غلطی کے منطقی نتائج تھے کہ سید مودودی کے بقول غلطی کبھی بانجھ نہیں رہی۔ یہ غلطی تو ابھی تک انڈے بچے دے رہی ہے اور گمان کہتا ہے کہ یہ اتنی کثیر العیال ثابت ہوگی کہ حکمرانوں کے سنبھالے نہیں سنبھلے گی۔
جناب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ جج کسی اور نے نہیں میں نے بحال کئے؟ پی پی پی کے زعما کا کہنا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی یہ طے کرلیا تھا کہ ججوں کو ضرور بحال کریں گے لیکن کیا کرتے۔ عبدالحمید ڈوگر چیف جسٹس تھے اور ایک وقت میں دو چیف جسٹس کیسے بنا دیتے؟ معصومیت سے جنم لینے والی سادگی میں ایک حسن ہوتا ہے جس پر مرمٹنے کو جی چاہتا ہے جس سادگی میں عیاری مچل رہی ہو، وہ عوام کیلئے شدید ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہے۔ اگر ایسا ہی تھا تو 9مارچ کے معاہدے میں ایک ماہ کی مدت کا تعین کیوں کیا گیا؟ اگر ایسا ہی تھا تو 7/اگست کے قرآنی معاہدے میں 24گھنٹے کا وقت کیوں طے کیا گیا؟ اگر ایسا ہی تھا تو کامل ایک برس تک پیپلز پارٹی کے رہنما جسٹس افتخار چوہدری پر تبریٰ کیوں بھیجتے رہے؟ مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے میاں نواز شریف کو یہ پیغام کیوں بھیجا گیا کہ اگر آپ مزید دو سال کی توسیع دینے پر راضی ہوجائیں تو آپ کی نااہلی اور گورنر راج کا معاملہ حل ہوسکتا ہے؟ غلطی تسلیم کرنا محض ایک رسم نہیں ہوتی اسے تمام تر علاقوں اور ذلتوں سمیت قبول کرنا پڑتا ہے ورنہ تلافی نہیں ہوسکتی۔
میں انشاء اللہ کل بیان کروں گا کہ اگر جج معاہدہ بھوربن کے مطابق بحال کردیئے جاتے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کوشش برقرار رہتی اور میثاق جمہوریت پر صدق دلانہ عملدرآمد کا آغاز ہوتا تو آج کا سیاسی منظرنامہ کس قدر مختلف ہوتا۔ جہاں تک جناب کائرہ کا تعلق ہے کہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب کیوں نہیں ہوتا تو پہلی بات یہ ہے کہ اس سوال کی کو نپل ان کی شاخ فکر پر این آر او کے عدالتی فیصلے کے بعد ہی کیوں پھوٹی ہے؟ جسٹس (ر) قیوم کا احتساب کیوں نہیں کرتے جس پر سیف الرحمن سے سازباز کرکے بی بی کوسزا سنانے کا الزام ہے اور جس کے خلاف کارروائی کیلئے سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے؟ اور وہ پرویز مشرف نامی جرنیل کو کٹہرے میں کیوں نہیں لارہے جسے عدالت غاصب قرار دے چکی ہے اور جس کے بارے میں کبھی آپ پارلیمینٹ کی متفقہ قرارداد اور کبھی اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی کی شرط عائد کرتے اور کبھی ان ڈوایبل (Undoable) قرار دیتے ہیں؟ غلطیوں کا اعتراف، اصلاح احوال کا عزم نو مانگتا اور زودآوروں کا احتساب پارسا بازؤں کی توانائی مانگتا ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کے پاس یہ اثاثہ ہے؟ (جاری ہے)


    Powered by Control Oye