دیا جلانا پڑتا ہے

 
دیا جلانا پڑتا ہے....سویرے سویرے …نذیر ناجی 
 
 
 
برصغیر کی تقسیم کا منصوبہ قبول کرنے والی قیادتیں، نہ جنونی تھیں اور نہ ہی سرحدوں کے دونوں طرف نفرت کے وہ الاؤ بھڑکانے کا، کوئی تصور ان کے ذھنوں میں موجود تھا، جو بعد میں مسلسل بھڑکائے جاتے رہے ۔ جنگیں ہوئیں ۔دونوں طرف سے خون بہا ۔ حاصل کسی کو کچھ نہیں ہوا۔بھارت اور پاکستان کی سرحدیں آج بھی وہی ہیں جو 1948 میں تھیں، نہ کشمیر میں ہونے والی جنگوں میں پاکستان کو حاصل ہوا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کر کے، بھارت بھی کچھ حاصل نہیں کر سکا۔سوائے اس کہ اب اسے، ایک مسلمان پڑوسی کی بجائے، دو مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ معاملات کرنا پڑتے ہیں۔اصل سرحدوں یا زیر کنٹرول علاقوں میں ،جو برائے نام رد و بدل ہوا وہ اس قیمت کا عشرِ عشیر بھی نہیں جو دونوں ملکوں کے عوام اور افواج کو چکانا پڑی۔میں نے لکھا کہ تقسیم ہند کا منصوبہ قبول کرنے والے قیادتیں جنونی نہیں تھیں۔محمد علی جناح اور ہمارے قائد اعظم کی شخصیت اور سیاست پر بے جے پی کے سابق راہنما جسونت سنگھ نے 61 برس کے بعد ہی سہی، بھارتیوں کے لئے ایک کتاب ضرور لکھ دی، جس میں واضح کیا گیا کہ وہ ہندوؤں کے دشمن نہیں تھے۔ وہ مسلمانوں کے حقوق اور تحفظات چاہتے تھے مگر کانگریس کی لیڈر شپ انہیں مطمن نہ کر سکی جس کی وجہ سے پاکستان کا قیام ناگزیر ہوا ۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو آج بھی پتہ نہیں کہ گاندھی جی نے پاکستان کی خاطر گولی کھائی تھی۔ ہم اپنے جسونت سنگھ کے انتظار میں ہیں۔ بھارتی جسونت سنگھ صرف جماعت بدر ہوا ۔ہمارے جسونت سنگھ کو گولی لگ سکتی ہے ۔
ہمارے ملک میں قائد اعظم کو انہی تصورات کا ترجمان اور نمائندہ بنا دیا گیا ہے جو تحریک پاکستان کے وقت، پاکستان اور قائد اعظم کے مخالفین تھے۔یہ المیہ خوف اور نفرت کے ان حالات کی وجہ سے رونما ہوا، جن میں جنم لینے والے مفادات، جنگ اور محاذ آرائی پر استوار ہوتے ہوتے ،اب ایک آہنی حقیقت بن چکے ہیں ۔ اگر بھارت کے حکمران طبقے پاکستان کو حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتے تو شائد رد عمل میں وہ خوف اور نفرت پیدا نہ ہوتے، جن پر بعد میں مسلح اداروں اور پھر ان کے حواری ملاؤں نے، پاکستانی معاشرے کی ایسی تشکیل کی، جو اب حقیقی تصور پاکستان کو بری طرح سے مسخ کر چکی ہے۔ نئی نسل کو تو دونوں طرف ہی نہیں بتایا گیا کہ آزادی کے کئی سال بعد تک دونوں ملکو ں کی کرنسی بھی ایک رہی اور آمدورفت کے لئے پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت نہیں تھی۔ قائد اعظم کا تصور پاکستان، آزادی سے پہلے ایک انٹرویو میں واضح ہو گیا تھا کہ آزادی کے بعد وہ بھارت اور پاکستان کے مابین اسی طرح کے تعلقات چاہتے ہیں جو امریکہ اور کینیڈا میں ہیں ۔بھارت کی طرف سے پہلی زیادتی پاکستان کے فنڈز ، اسلحہ میں حصہ اور اثاثوں کے معاملے میں نا انصافیوں کی صورت میں کی گئی اور اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت ریاستوں کے الحاق کا وہ فارمولا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا جو کہ طے شدہ تھا۔ حیدرآباد دکن پر ہندو اکثریت کوجوازبنا کر قبضہ کیا گیا اور جموں و کشمیر کو وہاں آبادی کی اکثریت کے تسلیم شدہ حق کو پامال کرتے ہوئے، وہاں کے حکمران کے خط کو بنیادکر، جموں و کشمیر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا گیا۔اس قبضے کے نتیجے میں پاکستانی حکمران اور عوام خوف کا شکار ہو گئے ۔اس وقت سرد جنگ شروع ہو رہی تھی۔ پاکستانیوں کا خوف، انہیں اسلحہ مانگنے کے لئے واشنگٹن لے گیا اور امریکیوں کی سرد جنگ کی ضرورتیں، اس کی طرف سے پاکستان کو فوجی معاہدوں میں جکڑنے کا موجب بن گئیں۔اس کے بعد معاملات پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھ سے نکلنے لگے ۔ بھارت کے خوف سے جو فوجی طاقت حاصل کی گئی ،اسے پاکستان کے کمزور سیاسی ڈھانچے کو تہس نہس کر کے، اقتدار پر قبضے کے لئے استعمال کیا گیا ۔اس کے بعد پاکستان کی سول سوسائٹی کمزور سے کمزور تر ہوتی گئی ۔ سیاسی نظام کی نشو و نما رک گئی ۔امریکہ نے جس کمیونسٹ خطرے کا نام لے کر پاکستان میں جنگی سازو سامان کے ڈھیر لگائے، اس کے استعمال کی نوبت کبھی نہیں آئی کیونکہ پاکستان پر کسی کیمونسٹ نے حملہ نہیں کیا ۔ ظاہر ہے اس پر سوالات پیدا ہونا تھے۔ ا ن سوالوں سے بچنے کے لئے کشمیر میں دخل اندازی کی گئی اور جب جوابی فوج کشی ہوئی تو جنگ چھڑ گئی ۔اس جنگ نے دو نوں ملکوں کے حکمران طبقوں اور عوام کے درمیان ایک نیا کھاتہ کھول دیا ۔ جس میں سارے حساب کتاب دشمنی کے زیر عنوان درج ہونے لگے ۔1965 ء کی جنگ کو میں اس لئے اہمیت دے رہا ہوں کہ اس کی وجہ سے پاکستان کے حکمران کو مزید اسلحہ اور مزید مسلح طاقت حاصل کرنے کا عذر مل گیا ۔مگر اتنا ہی کافی نہیں تھا ۔بھارت کے ساتھ دشمنی کو مذہبی بنیادیں فراہم کرنے کی بھی ضرورت پڑی ۔ اس مقصد کے لئے حکمران آمروں نے مذہبی سیاستدانوں کو اتحادی بنا لیا ۔مذہب کی بنیاد پر دو ملکوں میں باہمی نفرتوں کو اس بنیاد پر آگے بڑھایا گیا جو حصول پاکستان کیلئے سیاسی مقصد کے تحت رکھی گئی تھی ۔قائد اعظم نے حصول پاکستان کی بنیاد ٹو نیشن تھیوری کو قرار دیا تھا ۔فوجی آمروں اور ملاؤں کی ملی بھگت کے نتیجے میں ٹو نیشن تھیوری کو پہلے دو قومی نظریہ اور پھر نظریہ پاکستان قرار دے دیا گیا اور پھر نظریہ پاکستان پر کتابوں اور مضامین کے ڈھیڑ لگا دئیے گئے، جن میں ثابت کیا گیا تھا کہ پاکستان مسلمانوں کے معاشی ، سیاسی اورسماجی حقوق کے تحفظ کی بجائے ،نفاذ اسلام کے لئے حاصل کیا گیا تھا ۔جب سیاست کے لئے مذہب کو استعمال کیا جائے تو مذہب کی روح سیاست کی نذر ہو جاتی ہے کیونکہ سیاست مفادات اور داؤ پیچ کا کھیل ہے ۔جب اس کھیل میں مذہب کا استعمال شروع کر دیا جائے تو پھر نہ صرف مذہب کا استحصال ہوتا ہے بلکہ عوام کا استحصال بھی شروع ہو جاتا ہے ۔ کوئی بھی ظلم اور نا انصافی کے خلاف اور سماجی حقوق اور انصاف کے حق میں آواز اٹھاتا ہے۔ اس پر کفر اور بے دھرمی کے فتوے لگ جاتے ہیں ۔
ایسا صرف پاکستان میں نہیں ہوا ۔بھارت میں ہندو دھرم کے نام پر تنگ نظری اور تعصب پر مبنی جو نظریات پائے جاتے تھے اور جن کے نتیجے میں مسلمانوں کو اپنی کمیونٹی کے تحفط کے لئے پاکستان کا مطالبہ کرنا پڑا ۔ و ہ بھی شدید ہوتے گئے ۔ تقسیم کے بعد آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا کو اپنے سیاسی نظریات اور مفادات کو آگے بڑھانے کا موقع مل گیا ۔ وہ پاکستان کو بھارت ماتا اور ہندو دھرم کا دشمن قرار دے کر پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پھیلاتے رہے اور پاکستان کے مذہبی سیاستدان، جوابی نفرت پھیلا کر، اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرتے رہے ۔ دونوں طرف کے مذہبی سیاستدان ایک دوسرے کو، تقویت پہنچاتے ہیں ۔ ان حالات میں دونوں طرف کے استحصالی طبقے فائدے اٹھاتے ہیں۔ میں اکثر لکھتا رہتا ہوں کہ پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کے حکمران طبقے دشمنی اور باہمی نفرت پر بڑے بڑے مفادات پیدا کر چکے ہیں۔یہ دونوں طرف کے میڈیا ، سیاست اور ریاستی اداروں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ہوش مندی کی کوئی آواز اٹھتی ہے تو اسے فوراً پرُتعصب آوازوں کے شور میں دبا دیا جاتا ہے ۔جس روز ”امن کی آشا “ کا پروگرام سامنے آیا۔اس سے ایک دن پہلے بھارتی فوج کے سربراہ پاکستان پر فوجی حملے کے امکان پر بات کر چکے تھے اور اگلے روز پاکستان کے چیف آف دی آرمی سٹاف جنگ کا سامنا کرنے کا عزم دہرا رہے تھے ۔ایسے ماحول میں جب میڈیا ، جنرلوں اور حکمرانوں کی طرف سے جنگ کی بھاشا میں بات ہو رہی ہو۔ اس وقت امن کی آشا کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے ۔ ایسا کٹھن کام کہ باد باد مخالف کے تھپیڑے اٹھا اٹھا کر پھینکیں گے ۔مگر ظلمت کو توڑنے کے لئے کسی نہ کسی کو دیا جلانا پڑتا ہے۔ امن کی آشا کا جو دیا ،پاکستان اور بھارت کے دو میڈیا گروپس نے مل کر جلایا ہے دعا ہے کہ اس کی روشنی ،تاریکیوں پر غالب آئے ۔روشنی کرن کرن پھیل کر ہی اندھیرے پر غالب آتی ہے


    Powered by Control Oye