خود فریبی ، خود فریبی

 
خود فریبی ، خود فریبی .....ناتمام…ہارون الرشید 
 
 
 
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا اور بالآخر اس کا رزق ہو جاتا ہے۔ خود فریبی، خودفریبی، خود فراموشی ، خود فراموشی۔
کو ّا اگر ہنس کی چال چلے تو اپنی چال بھی بھول جاتا ہے لیکن اگر ہنس کو ّے کی چال چلنے کی کوشش کرے؟ قمر الزماں کائرہ صاحب کتنا ہی پختہ ارادہ کر لیں، ذوالفقار مرزایا راجہ ریاض نہیں بن سکتے۔ بے سر وپا اور بے معنی خطابت آپ کے لئے نہیں، اسے راجہ ریاضوں کے لئے چھوڑ دیجئے۔ پرسوں مطالبہ کیا کہ بلاول کی خاطر وزارت عظمیٰ کے امیدوار کی عمر 20سال کر دی جائے۔ آپ ایک غور و فکر کرنے والے آدمی ہیں، شور و غوغا کرنے والے نہیں پھر یہ کہ خطابت کے زمانے لد گئے۔
قوم کا وجود جب خطرے میں پڑنے لگے، مسائل جب بہت سنگین ہو جائیں اور بات عوام پر آ پڑے تو وہ لمحہ طلوع ہوتا ہے، جب چیختی چلاتی ہزار آوازوں کے درمیان ایک عام آدمی بھی دانائی اور صداقت کی صدا پہچان سکتا ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور راجہ ریاض کس کھیت کی مولی ہیں، قوموں پر وہ وقت آتے ہیں کہ عطاء اللہ شاہ بخاری ایسے خطیب کی سنی اَن سنی کر دیتی ہے۔ ان پر خدا رحم کرے، پیپلز پارٹی کے لیڈر بالکل ہی غلط بحث میں الجھ گئے۔ چیخ چیخ کر وہ کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہے۔ کوئی اگر غور کرے توبات کو پا لے ۔ تین گروہوں سے ان کو شکایت ہے۔ ایک کا کھل کر نام لیتے ہیں یعنی اخبار نویس۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ اخبار نویس تو کبھی سازش کر ہی نہیں سکتا۔ ہرصبح اس کا موٴقف ہی نہیں، نامہ ٴ اعمال بھی سامنے آتا ہے۔ لفظ لفظ گواہی دیتا اور سطر سطر بولتی ہے کہ اس کا تناظر کیا ہے اور ہدف کیا۔ اس کے انداز ِ فکر کی بنیاد ، اس کے تعصبات ، ترجیحات اور مزاج بھی۔ لیڈروں کی نہ ہو سکی لیکن اخبار کے قاری اور ٹی وی کے ناظر کی ذہنی سطح اس قدر بلند ہو گئی کہ سطور سے زیادہ وہ بین السطور کا ادراک کرنے لگا ۔ گھریلو بیبیاں تک آئین اور قانون کی نزاکتوں کو سمجھنے لگیں اورلیڈر ہیں کہ ابھی تک ستر اور اسّی کے عشرے کی سیاست فرما رہے ہیں۔ لد گیا حضور، وہ زمانہ لد گیا۔
اس آدمی کا کوئی کیا کرے جو اپنے جوان بیٹے کو جو کاروبار اور زندگی کی نزاکتوں کو سمجھنے لگا، لولی پاپ سے بہلانے کی کوشش کرے۔ اس کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے اور ماضی میں زندہ رہنے والے لیڈروں کے لئے بھی، قمر الزماں کائرہ نے جن میں شامل ہونے کی کوشش کی ہے۔
دوسری شکایت انہیں فوج سے ہے۔ اس کا نام نہیں لیتے ۔ اشارہ کرتے ہیں اور مکر جاتے ہیں لیکن پھر وہی اشارے، بار بار وہی اشارے۔اب کائرہ صاحب نے قدرے کھل کر بات کی۔ سازش کا وہی پرانا گیت اور پھر یہ مطالبہ کہ ججوں اور جنرلوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے۔ ضرور ہونا چاہئے۔ لازماً ہونا چاہئے، بہرحال ہونا چاہئے۔ کس نے انہیں روکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کا مطالبہ کس سے ہے۔ حکومت کے کرنے کا کام ہے، وہ شوق سے کرے۔ جن ججوں اور جنرلوں نے (بلکہ جرنلسٹوں نے بھی) ناجائز دولت سمیٹی ہے، ان کے بارے میں اوّل حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں، پھر قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔ قوانین اگر ناکافی ہوں تو چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند ماہ میں نئے قوانین بنائے جا سکتے ہیں۔ مشکل مگر یہ ہے کہ اس کے لئے پارلیمان کے پاس جانا پڑے گا اور قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد کبھی کوئی ایسی حکومت نہیں آئی جو پارلیمان کو پورا اختیار دینے پر آمادہ ہو۔ ساڑھے تین سو منتخب ارکان کی اسمبلی تو رہی ایک طرف، آج تک کسی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے اپنی کابینہ کو فیصلوں کا حق نہ دیا۔ تمام فیصلے ایک آدمی کرتا ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک خاندان یا مٹھی بھر ذاتی مشیروں کا ایک گروہ۔ اس لئے کہ شفاف سیاست کے لئے جس شفاف کردار کی ضرورت ہے، وہ اس سے محروم رہے اور محروم ہیں۔ پورا سچ بولنے والے آسمان سے نہیں اترتے، وہ آپ اور ہم جیسے آدم زاد ہوا کرتے ہیں۔ فقط یہ کہ وہ ذاتی مفاد اور تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں، آغا محمد یحییٰ خاں، جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل سیّد پرویز مشرف تو رہے ایک طرف، ذوالفقار علی بھٹو، میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر کیا اس معیار کی حامل تھیں؟ کائرہ صاحب جانتے ہیں کہ ہرگز نہیں ۔ کہنے کو وہ یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے آمریت سے کبھی سمجھوتہ نہ کیا مگر جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے آٹھ برس تک فیلڈ مارشل کے گیت گائے، صلاح الدین ایوبی قرار دیا اورخوش دلی سے مادرِ ملت کے خلاف سرکاری سازش اور مہم کا حصہ رہے۔ کائرہ صاحب جانتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے کامل ایک برس تک امریکہ اور برطانیہ کے سائے میں پرویز مشرف سے خفیہ مذاکرات کئے اور جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں عوامی احساسات کے ادراک نے انہیں مشرف سے کیا وعدہ توڑنے پر مجبور کر دیا اور غالباً اسی لئے وہ شہید کر دی گئیں۔ قمر الزماں کائرہ جانتے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف خفیہ ایجنسیوں کی گود میں پروان چڑھے۔ بھٹو خاندان کی طرح یہ عظیم عوامی رہنما بھی حکومت میں رہ کر کاروبار فرماتا رہا۔ ایک شاندار مقابلے میں ، بھٹو کے پسماندگان، شریف خاندان اور چوہدریوں نے اربوں ڈالر کمائے اور بیرون ملک بھیجے۔ صرف خدا ہی جانتا ہے کہ ان میں بڑا فاتح کون ہے۔ جہاں تک ووٹروں کا تعلق ہے، وہ لوٹے، ستائے اور دھوکہ دیئے گئے۔ ان کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ ہر روز ان سے نئے وعدے کئے اور توڑ ڈالے گئے۔ طوفانوں کی زد میں آتے ہیں تو لیڈر لوگ چیختے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ کوئی سازش نہیں، ان کی کمزوریاں ہی اتنی ہیں کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو نہیں سکتے۔
اخبار نویس کچھ نہیں کر سکتے۔ سارے اخبار مل کر بھی عمران خان کو بددیانت ثابت نہیں کر سکتے اور سارے اخبار نویس مل کر بھی اسے سیاسی مدبر نہیں بنا سکتے۔ رہ گئی فوج اور عدلیہ تو حضور جو رائے عامہ اور اس رائے عامہ کے ایما پر جو پریس کروڑوں ووٹروں کی حمایت سے طاقت پانے والے سیاستدانوں سے نمٹ سکتا ہے ضرورت پڑی تو وہ ججوں اور جنرلوں سے بھی نمٹ لے گا۔ انشاء اللہ عوام افواج پاکستان کو بھی آئینی حدود کا پابند کرنے میں کامیاب رہیں گے۔ اب کی بار افواج اور عدالت نہیں بلکہ عوام فیصلہ کریں گے۔ لکھ لیجئے کائرہ صاحب، لکھ لیجئے۔ اگر اب سازش ہوئی تو مقابلہ سیاسی لیڈر نہیں، عدالت اور عوام کریں گے۔ آپ کا زمانہ تو گزر گیا اور ہر ناقص گروہ کا زمانہ گزر جاتا ہے الّا یہ کہ وہ توبہ اور تلافی کرے۔ میاں نواز شریف کے لئے، چوہدریوں کے لئے ، مولانا فضل الرحمن، الطاف حسین، اسفند یار ولی خان اور باقیوں کے لئے بھی مضمون واحد ہے مگر افسوس کہ اکثر لوگ غور نہیں کرتے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا اور اس کا رزق ہو جاتا ہے۔ تاریخ کا اژدھامنہ کھولے کھڑا ہے۔ کتنے گروہ اس کا رزق ہونے والے ہیں، مگر جانتے نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب یہ کہتی ہے کہ جو اسے بھول جاتا ہے، اسے اپنا آپ بھلا دیا جاتا ہے۔ خود فریبی، خود فریبی، خود فراموشی ، خود فراموشی۔ 



    Powered by Control Oye